خرید بک لینک
جب عقل ہے تو دین کی کیا ضرورت؟تحرير: سيد غيور الحسنينعقل کلیات کا ادراک کرتی ہے جزئیات کو درک نہیں کر سکتی. لہذا اللہ پاک نے ہمیں دین دیا تاکہ جزئیات کے ادراک کی جگہ پر ہو سکے. جیسے وجود خدا کا اثبات عقل کرتی ہے لیکن وہ کیسا ہے؟ اس کی صفات کیا ہیں؟ عقل کی مدد کے لیے دستورات خدا کی ضرورت ہے جو آج قرآن کریم اور اھل بیت علیھم السلام کے فرامین کی صورت ميں موجود ہیں. لہذا عقل اور دین میں کوئی تصادم نهيں.اگر کوئی عقل و دین کے درمیان جدائی کا قائل ہے تو شاید اس نے عقل کو نہیں سمجھا یا دین صحيح راستے سے نہیں لیا یا جان بوجھ لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔

برچسب: نویسنده: آرتمیس نیکنام تاريخ: يکشنبه 12 تير 1401 ساعت: 4:36

کونڈے وہ برتن ہیں جن میں کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو رکھا جاتا ہے. زمانہ امام جعفر صادق عليه السلام 34 سال پہ محیط ہے. (114ھ تا 148ھ) ان میں معجزات وکرامات اور ارشادات بھی ہیں جنہیں الجرائح و الخرائج نے اور تزکرة المعصومین نے تفصیل سے لکھا ہے. امام عليه السلام علم لدنی کے مالک تھے اور پسندیدہ رب تھے . ایک صحابی نے دعا کے لیے کہا آپ نے الله تعالى سے التجا کر کے مراد پوری کر دی. صحابی نے عقیدت میں نیاز تیار کی کونڈے میں رکھ کر صبح کی نماز کے بعد نمازیوں کو کھلا دی (22 رجب تھی) لوگوں نے دیکھا دیکھی منتیں ماننا شروع کر دیں جن کی پوری ہوگئیں کونڈے بھرنے شروع ہو گے. اور یوں تیرہ سو سال سے یہ رسم چلی آ رہی ہے.عبدالرحمن جامی نے شواہد النبوة میں امام جعفر صادق عليه السلام  کا وعدہ پورا کرنا اور کرامات دکھانا وضاحت سے لکھا ہے. یہ نذر ونیاز اس لیے زیادہ مقبول ہوئی کہ امام جعفر صادق عليه السلام  نے فرمایا: منت کے صیغے پڑھ کر قصد کیا جاے،تو مراد پوری ہوتی ہے، رزق میں اضافہ ہوتا ہے، مومنین سے محبت بڑھتی ہے، صلہ رحمی کا موقع ملتا ہے، پاکیزگی سے کھانا پکانے کا درس ملتا ہے، اور اہل بیت سے محبت بڑھتی ہے.آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے + نوشته شده در چهارشنبه ۱۳۹۹/۱۲/۱۳ ساعت 9 PM توسط Syed Ghayyur Ul Hasnain  | 

برچسب: نویسنده: آرتمیس نیکنام تاريخ: يکشنبه 12 تير 1401 ساعت: 4:36

صلح امام حسن علیہ السلامصُلح امام حسنؑ اس قرارداد کو کہا جاتا ہے جو شیعوں کے دوسرے امام، امام حسنؑ اور معاویۃ بن ابی سفیان کے درمیان سنہ 41 ہجری کو منعقد ہوا۔ یہ صلح نامہ ایک ایسے جنگ کے بعد منعقد ہوا جو معاویہ کی زیادہ خواہی اور اس کی طرف سے امام حسنؑ کی بعنوان خلیفہ مسلمین بیعت سے انکار کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی۔ اس صلح کے مختلف عوامل و اسباب ہیں جن میں سے امام حسنؑ کے بعض کمانڈروں کی خیانت، حفظ مصلحت مسلمین، شیعوں کی جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت اور خوارج کی طرف سے اسلام کو نقصان پہچانے کا خطرہ وہ اہم ترین عوامل میں سے ہیں جن کی وجہ سے امام عالی مقام اس صلح نامے پر راضی ہونے پر مجبور ہوئے۔ اس صلح نامے کے مطابق امام حسنؑ نے کئی شرائط کے ساتھ خلافت کو معاویہ کے سپرد کردیا۔ ان شرائط میں سے اہم ترین شرط یہ تھا کہ معاویہ اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کرے گا اور امامؑ اور آپ کے پیروکاروں کی جان مال عزت و آبرو محفوظ رہے گا۔ لیکن معاویہ نے ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا۔امام حسنؑ کی امامتامام علی علیہ السلام کی شہادت اور تدفین کے بعد عراق، مکہ اور مدینہ سمیت اس وقت کے تمام اسلامی ممالک میں موجود مسلمانوں بالاخص پیغمبر اکرمؐ کے بڑے بڑے اصحاب نے آپ کے فرزند امام حسنؑ کے ہاتھ پر بعنوان خلیفۃ المسلمین بیعت کی۔ جبکہ معاویہ جو شام اور مصر پر حکومت کرتا تھا، نے امام علیؑ کی طرح امام حسنؑ کی بیعت سے بھی انکار کردیا۔ جب امام حسنؑ کی خلافت کی خبر شام میں پہنچی تو معاویہ نے اپنے جاسوس عراق روانہ کیا اور امام اور آپ کے سپاہیوں کی تحرکات کی رپورٹ ہر لحظہ اسے پہنچتی تھی۔ دوسری طرف سے امام حسنؑ نے معاویہ کو اپنی بیعت کرنے کی دعوت دی اور مختلف خطوط کے ذریعے اسے بیعت سے انکار

برچسب: نویسنده: آرتمیس نیکنام تاريخ: يکشنبه 12 تير 1401 ساعت: 4:36

صفحه بندی